تزکیہ نفس اور مرشد – سید قاسم علی شاہ

0

اپنی ذات کے ادھورے پن کو مکمل کرنے کے لیے جس شخص کی ضرورت ہوتی ہے، وہ مرشد ہوتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بچے کوماں کے پیٹ میں ایک مدت تک رکھتا ہے پھر دنیا میں لاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہدایت بھی کسی سے منسوب کی ہوتی ہے، یہ اس لیے ہوتا ہےکہ کہیں میرا بندہ بھٹک نہ جائے۔ انسانی نفسیات کا سب سے خوبصورت پہلویہ ہے کہ وہ صحبت سے سیکھتا ہے۔ اسی فیصد لوگوں کے مسکرانے کا انداز ان کی ماں سے ملتا ہے، اس پر غور کیا گیا تو پتا لگا کہ جس چہرے کو انسان سب سے زیادہ دیکھتا ہے، وہ شعوری اور لاشعوری طور پر ماں کا چہرہ ہوتا ہے، جس وجہ سے ماں کی مسکراہٹ بچے پر پرنٹ ہو جاتی ہے۔ درحقیقت مرشد کا تعلق محبت کا تعلق ہوتا ہے، اس میں جبر نہیں ہوتا، یہ دل دینے والی بات ہوتی ہے۔ کسی جگہ پر اپنی عقل کا سمندر چھوٹی سی پوٹری لگتا ہے، اور احساس ہوتا ہے کہ اس کا ویژن مجھ سےزیادہ ہے. حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”آپ کی زندگی میں ایک آواز ایسی ضرور ہونی چاہیے جسے بغیر تحقیق کے مان جائیں اور وہ آواز مرشد کی ہوتی ہے۔“

مرشد وہ ذات ہوتی ہے جو مرید سے زیادہ مرید کے فائدے کو جانتی ہے کیونکہ جس راستے سے مرید گزرنا چاہتا ہے، وہ اس راستے سے گزرچکی ہوتی ہے، حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”ہر مسافر کو رہبر کی ضرورت ہوتی ہے، ہر چلنے والے کو رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔“ جو ہدایت کا طالب نہیں ہے، اس کو رہبر کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اگر کوئی منزل نہیں ہے تو پھر کون سا اور کیسا رہبر۔ ایک بندہ چوراہے پر کھڑے بابا جی سے پوچھتا ہے کہ باباجی یہ راستہ کہاں جاتا ہے، باباجی نے پوچھا تم نےکہاں جانا ہے، اس نے جواب دیا بس مجھے چلنا ہے، بابا جی نے کہا کہ پھر یہ نہ پوچھ یہ راستہ کہاں جاتا ہے، پھر جو بھی راستہ ملتا ہے اسی پر چلتے جاؤ۔

اللہ اور اللہ کا راستہ شوق کا راستہ ہے، یہ محبت کا راستہ ہے، اس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے راستے پر چلنے کا شوق بذات خود ایک منزل ہے، یہ سفر نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی انجام ہے۔
چلے ہو ساتھ تو ہمت نہ ہارنا واصفؒ
کہ منزلوں کو تصور میرے سفرمیں نہیں

ایک شخص حضوراکرم ﷺ کے عشق میں رو رہا تھا، اس نے اپنے مرشد سے پوچھا کیا اس کا کوئی نتیجہ ہے؟ مرشد فرمانے لگے کہ آپ ﷺ کے عشق میں رونا تو بذات بہت بڑا نتیجہ ہے، کیا تم اس کے بعد بھی کوئی اور نتیجہ لینا چاہتے ہو، لوگ تو ترستے ہیں کہ ہماری زندگی کے آنسوؤں میں کوئی ایک آنسو آپﷺ کی محبت کا ہو، یہ سعادت کتنی بڑی سعادت ہے کہ تمہاری آنکھ سے آپﷺ کی محبت میں آنسو ٹپک رہے ہیں۔

محبت کا معاملہ اصل میں استاد اور شاگرد کا معاملہ ہوتا ہے، یہ ایک پیر اور مرید کا معاملہ ہوتا ہے۔ لازم نہیں ہے کہ کسی کی نصیحت سکھائے، ممکن ہے کسی پروسس سے گزارا جائے اور سبق مل جائے۔ ایک مرید اپنے مرشد کے پاس آیا اور کہا کہ حضور میری طبیعت میں گداز نہیں ہے، کوئی طریقہ بتائیں تاکہ مسئلہ حل ہو جائے، مرشد نے کہا اس کے لیے تمہیں ریاضت کرنی پڑے گی، تمہارا مسئلہ حل ہو جائےگا، اس نے پوچھا حضور مجھے کیا کرنا پڑے گا؟ مرشد نے کہا فلاں علاقے میں فلاں موسم میں ایک پھول کھلتا ہے، اس سےدو قطرے عرق کے نکلتے ہیں، یہ شیشی لے جاؤ، اس کو بھر کے لاؤ. مرید چلا گیا، اسے شیشی کو بھرنے میں کئی سال لگ گئے، جب شیشی بھر گئی تو وہ خوشی سے لے کر اپنے مرشد کے پاس جانے لگا لیکن ابھی چلا ہی تھا کہ ٹھوکر لگنے سے شیشی ہاتھ سےگرگئی اور سارا عرق بہہ گیا، مرید رونے لگ پڑا، اسی دوران مرشد بھی وہاں پہنچ گئے، انہوں نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا حضور! میری سالوں کی ریاضت ضائع ہوگئی، مرشد مسکرائے اور ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے آنسو لیے اور فرمانے لگے کہ یہ آنسو اس عرق سے کئی گنا قیمتی ہیں مجھے یہی چاہیے تھے، اور جو گداز کا معاملہ تھا، وہ دل کے ٹوٹنے کے بغیر نہیں ملنا تھا. حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں ”نم آنکھ خدا کی رحمت کی دلیل ہے۔“

حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ رات جاگنے والا بد نصیب نہیں ہو سکتا، کسی نے پوچھا استاد جی رات جاگنے سے بد نصیبی دور ہوتی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے لیے رات جاگنا ضروری ہے؟ آپؒ نے فرمایا رات جاگنا بذات خود ایک اعزاز ہے کیونکہ رات جاگنے والا دیکھنے والے کی نگاہ میں ہوتا ہے۔ جب کوئی خریداری کرتا ہے تو وہ ذات دیکھ رہی ہوتی ہے کہ یہ اپنے معاملے میں کتنا سچا ہے، ممکن ہے اس کا معاملہ صرف ایک ہی ہو اور وہ یہ ہو کہ شراب پی ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نام کو خوشبو لگا کر ایمانداری سے رکھا ہو اور اگلے دن دنیا کو پتا چل گیا کہ میرے بندے نے میری تکریم کی ہے، اب مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کوعزت دوں۔

کشف المحجوب میں ہے کہ مرشد کے پاس ان کے مرید فیض لینے کے لیے ایک عرصہ سے بیٹھے ہوئے تھے، لیکن انہیں کچھ نہیں ملا تھا، ایک دن ایک شخص آیا، اس کی مرشد کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی، اس کو فیض مل گیا، اور وہ چلا گیا. مریدوں نے یہ دیکھا تو مرشد سے سوال کیا کہ کیا ہم نےآپ کی خدمت نہیں کی، کیا ہم نےآپ کو وضونہیں کرائے، کیا ہم نے ادب نہیں کیا؟ مرشد نےکہا کہ ہاں یہ سب کچھ تم لوگوں نے کیا مگر میں کیا کروں، تم گیلی لکڑیاں لے کر بیٹھے ہوئے ہو جبکہ اس شخص کی لکڑیاں خشک تھیں. خشک لکڑیاں لے کر جانے والا بذات خود محترم ہوتا ہے۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”روحانیت میں، خدا کے راستے میں منزل تمہارا انتظار کر رہی ہوتی ہے لیکن تم منزل لینےکے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔“ جو آنکھ دیوار سے پار نہیں جا سکتی، جو سماعت کمرے سے باہر نہیں جا سکتی وہ کیا دعویٰ کرے گا کہ وہ خدا سے محبت کر رہا ہے. یہ اللہ تعالیٰ کی نظر کرم ہے جو بندے پر پڑتی ہے اور اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میری اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ جاننے والا محبت کر سکتا ہے، انجان کی محبت کیا محبت ہوگی، یہ اس کا حسن خیال ہے کتھے مہرعلی کتھے تیری ثنا۔ اگر زمانہ چاہے تو وہ ذات کل کائنات میں نہیں سما سکتی لیکن اگر سمانے پہ آئے تو بندہ مومن کے دل میں سما جاتی ہے۔

سچی طلب سے فاصلے ختم ہو جاتے ہیں، تیرہ سو سال کا پردہ ہٹ جاتا ہے اور غازی علم دین شہید ؒ امر ہو جاتا ہے۔ سچی طلب سات سو سال کے فاصلے کو ختم کر دیتی ہے، پھر کہاں مولانا رومؒ اور کہاں حضرت علامہ اقبالؒ، فاصلے کے باوجود بھی بندہ فیض یافتہ ہوجاتا ہے۔ محبت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ جسمانی موجودگی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور فاصلہ سمٹ جاتا ہے۔ اگر سچی محبت نہ ہو تو بارگاہ رسالت ﷺکے پاس رہنے والا ابوجہل ہی رہتا ہے جبکہ حبشہ سے آنے والے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا ستارہ چمک جاتا ہے. حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضوراکرمﷺ کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺمیں جہاد پہ جانا چاہتا ہوں، آپﷺ نےفرمایا تمہاری ماں ہے، انہوں کہا جی ہاں، آپﷺ نےفرمایا اس کی خدمت کرو، انہوں نےاسی بات کو دو تین دفعہ دہرایا جس پر حضوراکرم ﷺ نےفرمایا کہ تیرے لیے جہاد سے افضل ماں کی خدمت ہے۔ ممکن ہے ہمیں کوئی کہے کہ راستے کا پتھر ہٹا دو جبکہ ہم نے فیصلہ کیا ہو کہ ہم نے پہاڑ ہٹانا ہے، ممکن ہے کوئی کہے کہ نماز پڑھ لو جبکہ ہم نے سوچا ہو کہ ہم نے مسجد بنانی ہے۔ بعض اوقات جو کہہ دیا جائے، اسےمن و عن قبول کر لینا چاہیے، اسی میں بہتری ہوتی ہے۔ سچی طلب سب سے بڑا رہبر ہے کیونکہ سچی طلب سچے رہبر تک لےجاتی ہے. حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”سچا مرید جھوٹے پیر کو بھی سچا کر دیتا ہے۔“

جو روحانیت لے کر آتا ہے، وہ ضائع نہیں جاتی کیونکہ اس نے روحانیت کے لیے راتیں لگائی ہوتی ہیں، کشت کاٹا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر وہ پیغام سینوں، کتابوں اور لوگوں کی گواہیوں میں زندہ رہتا ہے۔ جس رات حضور اکرم ﷺ نے تین سو تیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اکھٹا کر کے دعا فرمائی کہ اے اللہ اگر یہ چلےگئے تو پھر کوئی تیرا نام لیوا نہیں رہےگا، وہ دعا اتنی قبول ہوئی کہ وہی تین سو تیرہ کی تعداد آج اربوں تک پہنچ چکی ہے کیونکہ فیض والا معاملہ رکتا نہیں ہے، چل پڑتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ آخری ایام میں مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے، اور آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےعرض کی یارسول اللہ ﷺ ! کیا وجہ ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے تو مجھے دیکھا ہے مگر میں ان کو یاد کر کے رو رہا ہوں جنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا لیکن وہ مجھے یاد کر کے روئیں گے۔ کتاب تو شاید علم کا مدفن ہے لیکن نگاہ مخرج ہے اس لیے فیض ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہوتا ہے۔ دنیا میں آج تک کسی کو اتنی محبت سے یاد نہیں کیا گیا جتنا حضوراکرم ﷺ کو یاد کیا گیا۔

دو شخص آپس میں باتیں کر رہے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا کہ فلاں بہت بڑے بزرگ ہیں، دوسرا شخص ان بزرگ کو چیک کرنے چلا گیا، اور کئی دن بیٹھا رہا، بیٹھنے کی وجہ سےاس کا بزرگ سے رابطہ ہوگیا، پھر اسی طرح کئی سال گزرگئے، اس شخص کو پہلی بار اس دن یہ احساس ہوا کہ یہ میرے مرشد ہیں جس دن وہ شہر سے باہر گئے کیونکہ وہ دن اس کے لیے گزرانا مشکل ہوگیا اور اسے محسوس ہوا کہ میری زندگی میں کوئی کمی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب آپﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کے ایمان کی حالت کچھ اور ہوتی ہے، جب اٹھ جاتے ہیں تو حالت کچھ اور ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بارگاہ جہاں پر ایمان کی حالت اور ہو جائے وہاں سمت بدل جاتی ہے. حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ”دنیا دار کی مجلس میں بیٹھ کر دنیا یاد آتی ہے اور اللہ والے کی مجلس میں بیٹھ کر اللہ یاد آتا ہے.“ پھرفرمایا ”جس مجلس میں تمہاری آنکھ میں نمی آ گئی وہاں پر تمہارا کوئی معاملہ ضرور ہے“ کیونکہ آنسو تعلق کی علامت ہیں۔ مرشد کے ساتھ محبت کا ایک وقت ہے، وہ تب تک ہے جب تک تکمیل نہیں ہوجاتی۔ فیض مل جانا جدائی کی علامت ہے، اور کہہ دیا جاتا ہے کہ اجمیر چلے جاؤ، پھر مرید جاتے وقت یہ کہہ جاتے ہیں.
گنج بخش فیض عالم مظہرنورخدا
ناقصاں راں پیر کامل کاملاں را رہ رہنما
حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ پاکستان اسی دن بن گیا تھا، جس دن حضرت بابا فرید گنج شکرؒ نے اجودھن کو پاکپتن بنایا تھا۔

Leave A Reply