جنت میں محل

0

خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں ایک بزرگ بہلول دانا تھے جو ہمیشہ مجذوبانہ کیفیت میں رہتے۔ وہ اکثر ریت کے ڈھیر پر بیٹھے رہتے اور بچوں کی طرح چھوٹے چھوٹے گھروندے بناتے رہتے پھر انہیں اچانک گرا دیتے۔ ایک دفعہ ہارون الرشید اور اسکی بیوی زبیدہ خاتون ہاتھی پر سواری کرتے کرتے ادھر آنکلے۔ ہارون الرشید نے دیکھا کہ حضرت بہلول حسب معمول ریت کے گھروندے بنا بنا کر ڈھا رہے ہیں۔ اس نے قریب جا کر ازراہ مذاق حضرت بہلول سے پوچھا، حضرت کیا کر رہے ہیں۔ حضرت بہلول نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا: جنت میں محل بنا رہا ہوں۔
ہارون الرشید نے کہا: حضرت کیا آپ یہ محل فروخت کرینگے؟
حضرت بہلول نے جواب دیا: ہاں ضرور فروخت کرونگا۔
ہارون الرشید نے پوچھا: کتنے کا؟
حضرت بہلول نے کہا ایک درہم کا۔
ہارون الرشید نے اس پر ایک قہقہہ لگایا اور چلنے کا حکم دیا، اتنے میں اس کی بیوی زبیدہ خاتون نے اپنی جیب سے ایک دینار نکالا اور حضرت بہلول کی طرف پھینک دیا۔ حضرت بہلول نے ایک لکڑی اٹھائی اور ایک گھروندے کے خرد خط کھینچتے ہوئے فرمایا: بیٹی! جنت میں تمہارا محل تیار ہو گیا ہے۔ زبیدہ خاتون اس یقین کی خوشی میں سرشار ہو گئی کہ اسے جیتے جی جنت مل گئی۔
رات ہارون الرشید نے خواب میں دیکھا کہ وہ اےک جنگل میں ہرن کا شکار کرتے کرتے بہت دور نکل آیا ہے اور مارے بھوک اور پیاس سے اسکی طبیعت انتہائی نڈھال ہو رہی ہے۔ اتنے میں اس نے اچانک دیکھا کہ سامنے سونے اور چاندی کا بنا ہوا ایک نہایت وسیع و عریض اور خوبصورت محل ہے۔ ہارون الرشید گھوڑے پر بھاگم بھاگ محل کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے مین گیٹ پر زبیدہ خاتون کا نام لکھا ہوا ہے۔ ہارون الرشید بہت خوش ہوا اور محل کے اندر جانے لگا۔ اس پر محل کے پہریداروں اور دربانوں نے اسے روک لیا اور کہا کہ تم محل کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ ہارون الرشید نے کہا زبیدہ خاتون میری بیوی ہے۔ پہرہ داروں نے کہا یہاں کوئی رشتہ کام نہیں آتا، جس کا محل ہے وہی اسکا مالک ہے کسی دوسرے کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہارون الرشید نہایت مایوس اور بدل ہو۔ اس عالم میں اسکی آنکھ کھل گئی۔ بقیہ رات بڑی بیقراری اور کرب میں گزاری۔ علی الصباح حکم دیا کہ سواری تیار کی جائے۔
ہاتھی پر سوار ہارون الرشید حضرت بہلول کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضرت حسب معمول اپنے کام میں مصروف ہیں، یعنی ریت کے گھروندے بنا بنا کر ڈھا رہے ہیں۔ ہارون الرشید نے پوچھا: حضرت کیا کر رہے ہیں؟
حضرت بہلول نے کہا جنت میں محل بنا رہا ہوں۔
ہارون الرشید نے کہا: حضرت بیچو گے؟ حضرت بہلول نے جواب دیا، ہاں۔
ہارون الرشید نے پوچھا، حضرت کتنے کا؟ حضرت بہلول نے کہا، تیری پوری سلطنت، ہارون الرشید پر سکتہ طاری ہو گیا۔ بڑی مشکل سے اپنے حواس پر قابو پایا اور لڑکھڑاتی زبان سے پوچھا: حضرت کل تو محل کی قیمت ایک درہم تھی؟
حضرت بہلول نے بڑے پراعتماد لہجے میں فرمایا ”کل تم بن دیکھے سودا کر رہے تھے۔ آج بذات خود دیکھ کر آئے ہو“۔

Leave A Reply