محبت کی شادی کی سزا، زہر کا پیالہ

0

طاہرہ شاہ اپنے سسرال کے کچن میں برتن دھو رہی ہیں، جیٹھانی کے ساتھ اچھی دوستی ہے اور دونوں کی گپ شپ چل رہی ہے۔ نئے گھر میں انھیں سسرال کا پیار اور بہو کی عزت تو ملتی ہے لیکن ان کی ازدواجی زندگی ادھوری ہے کیونکہ ان کے شوہر کامران لاڑک اب اس دنیا میں نہیں۔

نوبیاہتا جوڑے کو مرضی کی شادی کرنے پر ‘کارو کاری’ قرار دیا گیا تھا اور پھر دونوں کو بندوق کے زور پر زہر پلا دیا گیا۔

‘ کامران میرے سامنے گر کر تڑپنے لگا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ بس اب وہ ختم ہے اور اس کے ساتھ میں بھی ختم۔’

طاہرہ اب کبھی گھر نہیں جا سکتیں کیونکہ وہ ‘ کاری’ ہو چکی ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔

‘کاش ہم دونوں ہی بچ جاتے تو شاید میں انھیں معاف کر دیتی لیکن میں کیسے بھولوں کہ کامران کو صرف اس لیے مار دیا گیا کیونکہ وہ اس گھر کی بیٹی سے پیار کرتا تھا۔ کیا قصور تھا اس کا؟’

کامران کے والدین اب بھی خیرپور کے اسی گاؤں میں رہتے ہیں جہاں ان کے بیٹے کا قتل ہوا۔sindh

اسے قتل کرنے والے ان کے پڑوسی ہیں اور علاقے کے بااثر وڈیرے ہیں۔ اب کامران کے والد پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملزموں کے خلاف مقدمہ واپس لے لیں۔

کامران کی والدہ سسکیوں کے علاوہ کچھ بتا نہیں پاتیں۔ ان کی 16 سالہ بیٹی عائشہ سہمی سہمی نظروں سے کھڑکی سے باہر اس عالی شان گھر کی طرف بار بار دیکھ رہی ہے جہاں سے اس کے بھائی کبھی واپس نہ آ پائے۔

کامران کے والد غلام رسول لاڑک کے بال سفید اور آنکھیں غم اور غصے سے لال ہیں۔ بات کرتے ہوئے وہ اپنے جبڑے بھینچتے رہے جیسے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

‘ہم بھی بچوں کے ساتھ گئے تھے تاکہ کچھ صلح صفائی کروا سکیں ، لیکن ان ظالموں نے ہماری ایک نہ سنی ، میرا بیٹا اور بہو میرے سامنے ہی تڑپتے رہے اور میں ان کی بندوقوں کے آگے بے بس تھا۔’

‘انھوں نے کہا ہم تمہارے گھر پر بلڈوزر پھروا دیں گے۔ تمہاری عورتیں اٹھا کر لے جائیں گے۔ اب بھی بڑے بڑے لوگ ہمارے پاس آ رہے ہیں، کہہ رہے ہیں معاف کر دو۔ وہ طاقتور ہیں لیکن ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے ، اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں۔’

پولیس کو مخبری ہونے پر اہلکاروں نے موقعے پر ہی چھاپہ مار کر طاہرہ کے والد اور چچاؤں کو گرفتار کر لیا تھا تاہم اب تک اس کیس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

سندھ میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی تعداد بڑھ رہی ہے اور بظاہر تو یہ خاندان کی عزت کی بحالی کے لیے کیے جاتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق کاروکاری کی آڑ میں قبائلی اور جائیداد کے تنازعات بھی حل کیے جاتے ہیں۔

پولیس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا راج ہو وہاں سیاسی دباؤ انصاف کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔

خیرپور کے ڈی پی او اظفر مہیسر نے بتایا ‘دباؤ کا عنصر ہمیشہ رہتا ہے، جہاں پر بھی اہلکار کچھ حد تک سیاسی طور پر کمزور ہوں۔ ہمیں پروسیکیوشن کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘گو کہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی تو ہو چکی ہے لیکن زمینی حقائق اور تفتیشی فریم ورک پر بھی کام کی ضرورت ہے تاکہ ان قوانین پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد بھی ہو سکے۔’

خیرپور میں کامران لاڑک کے قتل کی جگہ سے کچھ قدم دور ان کی آخری آرام گاہ بھی ہے ـ ان کے بوڑھے والد جو ہمیں ہمت سے انٹرویو دیتے رہے یہاں پہنچ کر زاروقطار رونے لگے۔

کاروکاری کی جڑیں قبائلی رسم و روایات میں بڑی گہری ہیں اور جب تک قتل روایات کی آڑ میں جاری رہے گا غلام رسول لاڑک جیسے کئی باپ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کی قبروں پر یوں ہی نوحہ کناں رہیں گے

Leave A Reply