جہاں قانونی طور پر ممکن ہو برقع پر پابندی ہونی چاہیے: میرکل

0

جرمن چانسلر اینگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ جہاں تک قانونی طور پر ممکن ہو ملک میں برقع پہننے پر پابندی ہونی چاہیے۔

اپنی جماعت کے اجلاس میں انھوں نے سکولوں، عدالتوں اور دیگر سرکاری عمارات میں برقع پر پابندی کی حمایت کی۔

واضح رہے کہ جرمنی میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ مکمل طور پر برقعے پر پابندی عائد کرنا جرمنی کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔

اینگیلا میرکل سی ڈی یو جماعت کی سربراہ دوبارہ منتخب ہو گئی ہیں لیکن ان کو اگلے انتخابات میں دائیں بازو کی تارکین وطن مخالف جماعت اے ایف ڈی سے سخت چیلنج ملے گا۔

میرکل کی جانب سے جرمنی میں دس لاکھ پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت دینے کے بعد سے ان کی مقبولیت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

تاہم 2005 سے ملک کی چانسلر رہنے والی میرکل کو اب بھی کافی حمایت حاصل ہے۔

منگل کے روز سی ڈی یو کے اجلاس میں میرکل 89.5 فیصد ووٹ لے کر جماعت کی سربراہ ایک بار پھر منتخب ہوئیں۔

برقعے کے بارے میں میرکل کے بیان پر جماعت کے اراکین نے بھرپور تالیاں بجائیں لیکن ان پارٹی ممبران کو شاید یہ بیان پسند نہ آئے جو میرکل کو یورپ میں لبرل اقدار کے محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

میرکل نے جماعت کے اجلاس میں کہا کہ جرمنی میں اس بات کو معیوب سمجھا جاتا ہے کہ عورت اپنے چہرے کو مکمل طور پر چھپائے اور جہاں بھی قانونی طور پر ممکن ہوا برقعے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

بی بی سی کی نامہ نگار جینی ہل نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ انگیلا میرکل نے ایک اہم تقریر میں اس قسم کی بات کی ہو۔

دائیں بازو کی تارکین وطن مخالف جماعت اے ایف ڈینے پناہ گزینوں کی جرمنی میں آمد کے خلاف عوامی رد عمل سے فائدہ اٹھایا ہے۔

ایک تازہ سروے کے مطابق اے ایف ڈی کو قومی سطح پر 12 فیصد حمایت حاصل ہے۔

Leave A Reply