کون سا پھل حضور نبی اکرمﷺ پسند فرماتے تھے؟

0

سرکار دو عالم آقائے دو جہاںﷺ کی ذات مبارک ہم سب کےلئے بہترین نمونہ ہے۔ آپﷺ کے ہر قول‘ ہر فعل اور ہر عادت میں حکمت کا بحر بیکراں موجود ہے۔ آپ کی وہ عادات جن کا تعلق اگرچہ براہ راست شرعی احکامات سے نہیں لیکن ان کی اتباع ایک تو رسول کریمﷺ سے کمال محبت کا اظہار ہونے کی وجہ سے موجب ثواب ہے اور دوسرے دنیاوی فیوض و برکات کے حصول کا ذریعہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ آپ کی ہر ادا کی اتباع کا اہتمام فرماتے تھے۔
حضور پاکﷺ مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرماتے تھے، کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے، کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے، کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اور کبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جاسکتا ہے۔ آپﷺ کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کے باشندوں کے مزاج کے موافق پھل پیدا فرمائے ہیں چنانچہ ان علاقائی پھلوں کا انسانی صحت میں بہت دخل ہے۔ آپﷺ اپنے علاقے کے اعتبار سے کھجور کا باکثرت استعمال فرماتے۔ آپﷺ نے مدینہ کی کھجور کےلئے برکت کی دعا بھی فرمائی جس کے سبب وہاں ہمیشہ عمدہ اور بکثرت کھجور پیدا ہوتی ہے۔ آپﷺ کو عجوہ کھجور سب سے زیادہ پسند تھی اور اسے آپﷺ نے جنت کا پھل قرار دیا۔ حضرت عامر بن سعدؓ کی ایک روایت کے مطابق جو شخص صبح کو سات عجوہ کھجور کھا لے گا اس دن اس پر کسی جادو یا زہر کا اثر نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نبی کریم کا ایک ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر والے بھوکے ہیں۔ جب آپﷺ کی خدمت میں کوئی نومولود بچہ پیش کیا جاتا تو اس کے منہ میں گھٹی کے طور پر کھجور چبا کر ڈالا کرتے۔ اسی طرح آپﷺ نومولود بچے کی ماں کےلئے بھی کھجور تجویز فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے کھجور کے ساتھ مومن کو تشبیہ دی ہے کہ مومن کی طرح اس میں خیر ہی خیر ہے چنانچہ اس کے پتے تنا پھل حتیٰ کہ گٹھلی کا گودا بھی فائدہ مند ہے۔ حضور پاکﷺ مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے، کبھی کھجور ہی تناول فرمایا کرتے، کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے، کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اور کبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کر تناول فرماتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جاسکتا ہے۔ آپﷺ کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھے۔
اطباءنے بھی کھجور کو بہترین میوہ شمار کیا ہے۔ جگر کےلئے مقوی ہے اور قوت کو بڑھاتی ہے، حلق کے جملہ امراض سے نجات دلاتی ہے جبکہ پھلوں میں سب سے زیادہ غذائیت کھجور میں ہوتی ہے۔ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کھاﺅ اور اس کا تیل لگاﺅ یہ مبارک درخت سے نکلا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق اس میں ستر بیماریوں کےلئے شفاءہے۔ زیتون کا پانی جلی ہوئی جگہ پر آبلے نہیں پڑنے دیتا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے زیتون کے پتے بدن کے سرخ دانوں اور پھوڑے پھنسیوں کےلئے مفید ہیں۔ اس کا تیل جلد میں نرمی پیدا کرتا اور بالوں کی سفیدی روکتا ہے۔ حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ کو انجیر پیش کئے گئے۔ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کھاﺅ، اگر میں یہ کتا کہ جنت سے کوئی میوہ اتارا گیا ہے تو وہ انجیر کے متعلق کتا۔ انجیر مثانہ اور گردہ کو صاف کرتی اور زہر سے محفوظ رکھتی ہے۔ معدے سے بلغم کو خارج کر دیتی اور بواسیر کےلئے مفید ہے۔ خشک انجیر کا استعمال اعصابی کمزور کو دور کرتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم پیلو کا پھل توڑ رہے تھے تو سرکارﷺ نے فرمایا کہ سیاہ توڑنا۔ پیلو کا پھل معدے کےلئے مقوی ہے اور ہاضمے کو درست کرتا ہے۔ بلغم خارج کرتا اور پشت کے درد کو ختم کرتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے آپﷺ کو تازہ کھجور کے ساتھ تربوز تناول فرماتے دیکھتا۔ تربوز اور ککڑی دونوں ٹھنڈی تاثیر رکھتی ہیں۔ معدے کی گرمی کو دور کرتی ہیں۔ مثانہ کے درد کےلئے نافع ہیں۔ حضرت امیر بن زیدؓ نے بیان فرمایا کہ اللہ کے نبی پاکﷺ کو میووں میں انگور اور خربوزہ مرغوب تھے۔ حضورﷺ حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کشمش پیش کی آپﷺ نے تناول فرمائی اور ان کو دعا دی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ عرفہ کے دن آپﷺ کی خدمت میں انار بھیجا گیا۔ آپﷺ نے اسے تناول فرمایا آپﷺ کے بارے میں انار سونٹھ شہتوت صفرجل کھانے کی روایات بھی موجود ہیں۔ ان سب پھلوں میں بیش بہا طبی اور جسمانی فوائد ثابت ہیں۔ حضورﷺ نے یہ پھل تناول فرما کر ہمارے لئے ثواب کا ذریعہ بنا دیا۔ اگر ہم ان پھلوں کو سنت رسولﷺ سمجھ کر کھائیں تو جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے ان میں ثواب بھی ہے۔ بے شک حضورﷺ کی ہر ہر سنت کی پیروی ہمارے لئے ذریعہ نجات اور باعث سعادت ہے۔

Leave A Reply