Benazir Leadership Program launched at Harvard University

0

Harvard University launched a daylong leadership program in the name of Pakistan’s former Prime Minister Benazir Bhutto to create positive change.

The program titled ‘Leading In The Muslim World: What Would Benazir Do Today?’ aimed at supporting promising individuals from predominantly Muslim countries who have a proven commitment to the principles espoused by Benazir Bhutto including democracy, equality for women, reconciliation of religious and cultural differences, and education for all without gender or religious bias.

The daylong seminar that was organized yesterday (Monday) was free and open to the public and was held at Belfer Center Case Study Room, Cambridge Street, Massachusetts.

The program was convened by the former class fellows of Benazir Bhutto Shaheed at Harvard University.

Moreover, the daylong assembly examined what it means to lead in the Muslim world and reflect on what Benazir Bhutto might have been able to accomplish under today’s circumstances as Pakistan’s prime minister.

A goal for the program was to develop a plan to support Muslim students at Harvard through fellowship support, co-curricular activities drawing on Benazir’s HR ‘73 classmates, and public education to a wider audience

امریکہ میں کلاس اچیونگ چینج نامی تنظیم نے کہا ہے کہ مسلمان ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی نے بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام (بی بی ایل پی) کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔

یہ پروگرام کلاس اچیونگ چینج ٹو گیدر (Class Achieving Change Together ClassACT HR73) کی جانب سے کیا گیا ہے جو پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے کلاس فیلوز نے بنائی ہے۔

اس پروگرام کا آغاز منگل کو کیا گیا اور اس حوالے سے ایک اجلاس کیا گیا جس کا موضوع تھا ‘مسلمان ممالک میں قیادت: آج کے دور میں بینظیر کیا کرتیں؟’

بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کے تحت مسلمان ممالک سے خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔

اس پروگرام کی تکمیل کے بعد ان خواتین سے توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں اور جو سیکھا ہے اس کے ذریعے سیاست یا سرکاری یا پرائیوٹ اداروں میں تبدیلی لائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں 2018 سے لوگ آنا شروع ہوں گے۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور ان کو 27 دسمبر 2007 کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کا مشاورتی بورڈ ابھی تیار کیا جا رہا ہے اور فی الحال اس میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو، کمل چین، سینیٹر ایل فرینکن، سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ، کروئیشیا کی صدر کولنڈا گریبر اور سابق نائب گورنر کیتھلین کینیڈی شامل ہیں۔

Leave A Reply